ناگپور، 4؍اکتوبر(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا )سرکاری سوپر اسپیشییلٹی اسپتا ل(ایس ایس ایچ) کے ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے 18سالہ ایک لڑکے کے جسم سے 18سینٹی میٹر لمبی دم کو کامیابی سے الگ کر دیا ہے جسے سب سے لمبی دم بتایا جا رہا ہے۔اس دم کی غیر معمولی طریقہ سے بڑھنے کی وجہ سے نوجوان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔نیوروسرجری شعبہ کے چیف ڈاکٹر پرمود گری نے بتایا کہ خاندان کو پہلے ہی دم کے غیر معمولی بڑے ہونے کے بارے میں پتہ تھا لیکن وہ سماجی خوف اور اس سے منسلک ضعیف الاعتقادی کی وجہ سے ڈاکٹر سے رابطہ نہیں کر رہے تھے۔اس کے علاوہ اس سے اس کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا تھا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ عام طور پر پیدائش کے وقت ہی اس طرح کی پریشانی کا پتہ چل جاتا ہے۔آہستہ آہستہ بڑے ہونے پر بھی اس کی شناخت ہو جاتی ہے، لیکن اس معاملے میں والدین کے ساتھ بچے نے بھی اتنے سالوں تک اس بات کو چھپائے رکھا۔پیدائش کے کچھ مہینوں کے بعد ہی سرجری کے ذریعہ اس مسئلہ کو ختم کیا جا سکتا تھا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ جب لڑکے کے لیے یہ صورت حال کافی تکلیف دہ ہو گئی تب اس کے اہل خانہ اسے لے کر گزشتہ ہفتے اسپتا ل آئے اور دو دن بعد اس کا آپریشن کیا گیا۔ڈاکٹر گری نے بتایاکہ جب دم کی لمبائی بڑھ گئی اور اس میں ہڈیاں نکل آئیں تو اس سے لڑکے کو کافی پریشانی ہونے لگی۔یہ جسمانی اور ذہنی دونوں طور پر پریشان کن تھا۔مریض ٹھیک سے بیٹھ اور سو بھی نہیں پا رہا تھا۔ڈاکٹر گری کا دعوی ہے کہ یہ سب سے لمبی دم ہے اور یہ نادر معاملے میں سے ایک ہے اس لیے اسے میڈیکل جرنل میں جگہ دی جائے گی۔اس طرح کی دم خاص طور پر مثانے کو متاثر کرتی ہے۔اس سے پیروں یا جسم کے نچلے حصوں میں درد رہتا ہے۔